حدیث نمبر: 1505
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَرَأَ ص، فَلَمَّا مَرَّ بِالسَّجْدَةِ، نَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدْنَا مَعَهُ، وَقَرَأَهَا مَرَّةً أُخْرَى، فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ تَيَسَّرْنَا لِلسُّجُودِ فَلَمَّا رَآنَا، قَالَ: "إِنَّمَا هِيَ تَوْبَةُ نَبِيٍّ، وَلَكِنِّي أَرَاكُمْ قَدْ اسْتَعْدَدْتُمْ لِلسُّجُودِ"، فَنَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدْنَا.
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا تو سورہ ص پڑھی، اور جب آیت سجدہ پر پہنچے تو منبر سے نیچے تشریف لائے، سجدہ کیا تو ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا، اور پھر دوسری بار پھر (خطبہ جمعہ) میں سورہ ص پڑھی تو ہم سجدے کے لئے تیار ہو گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حالت میں ہمیں دیکھا تو فرمایا: ”یہ ایک نبی کی توبہ کا ذکر ہے (یعنی سجدہ ضروری نہیں) لیکن میں نے تمہیں سجدے کی تیاری کرتے دیکھ لیا ہے۔ “ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو ہم نے بھی آپ کے ساتھ سجدہ کیا۔

حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الصللاة / حدیث: 1505
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده ضعيف من أجل عبد الله بن صالح ولكنه توبع عليه فصح الإسناد، [مكتبه الشامله نمبر: 1507]
تخریج حدیث عبدالله بن صالح کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے، لیکن اس کا شاہد صحیح موجود ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1410] ، [ابن حبان 2765، 2799] ، [موارد الظمآن 689، 690]