سنن دارمي
مقدمه— مقدمہ
باب كَيْفَ كَانَ أَوَّلُ شَأْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائی حالت کا بیان
حدیث نمبر: 15
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَادِيهِمْ: "يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّمَا أَنَا رَحْمَةٌ مُهْدَاةٌ".محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوصالح سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پکارتے ہوئے فرماتے تھے: ”اے لوگو! میں ہدیہ کی گئی رحمت ہوں۔‘‘
وضاحت:
(تشریح احادیث 5 سے 15)
❀ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سراپا رحمت ہیں۔
❀ آپ انسانوں کے لئے قدرت کا انمول عطیہ ہیں۔
❀ نیز ان روایات سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت اور قدرومنزلت ثابت ہوتی ہے کہ میزان میں آپ سب پر بھاری ہیں۔
❀ نیز یہ کہ پیدائش سے ہی اللہ تعالی کی رحمت وعنایت آپ کے ساتھ تھی۔
❀ مہر نبوت کا بیان دیگر صحیح احادیث سے بھی ثابت ہے۔ دیکھئے: بخاری (3540،190)، مسلم (2345)۔
❀ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سراپا رحمت ہیں۔
❀ آپ انسانوں کے لئے قدرت کا انمول عطیہ ہیں۔
❀ نیز ان روایات سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت اور قدرومنزلت ثابت ہوتی ہے کہ میزان میں آپ سب پر بھاری ہیں۔
❀ نیز یہ کہ پیدائش سے ہی اللہ تعالی کی رحمت وعنایت آپ کے ساتھ تھی۔
❀ مہر نبوت کا بیان دیگر صحیح احادیث سے بھی ثابت ہے۔ دیکھئے: بخاری (3540،190)، مسلم (2345)۔