سنن دارمي
مقدمه— مقدمہ
باب مَنْ هَابَ الْفُتْيَا وَكَرِهَ التَّنَطُّعَ وَالتَّبَدُّعَ: باب: ان لوگوں کا بیان جنہوں نے فتوی دینے سے خوف کھایا اور غلو و زیادتی یا بدعت ایجاد کرنے کو برا سمجھا
حدیث نمبر: 149
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الْفَزَارِيِّ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: "لَأَنْ أَرُدَّهُ بِعِيِّهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَكَلَّفَ لَهُ مَا لَا أَعْلَمُ".محمد الیاس بن عبدالقادر
حمید بن عبدالرحمٰن نے کہا کہ کسی چیز کے علم سے عاجز آ کر اس کا جواب نہ دینا میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ و محبوب ہے اس چیز سے کہ جس کا مجھے علم نہیں ہے اس میں تکلف سے کام لوں۔ (یعنی اپنی کم علمی کا اظہار بےجا تکلف سے بہتر ہے)۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 147 سے 149)
ان دونوں روایات میں بنا علم کچھ کہنے سے پرہیز اور علم نہ رکھتے ہوئے تکلف سے بچنے کی ترغیب ہے۔
ان دونوں روایات میں بنا علم کچھ کہنے سے پرہیز اور علم نہ رکھتے ہوئے تکلف سے بچنے کی ترغیب ہے۔