سنن دارمي
من كتاب الصللاة— نماز کے مسائل
باب: «إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَلاَ صَلاَةَ إِلاَّ الْمَكْتُوبَةُ»: باب: جب جماعت کھڑی ہو جائے تو فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز نہیں
حدیث نمبر: 1488
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ ابْنِ بُحَيْنَةَ، قَالَ: أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَرَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ، لَاثَ بِهِ النَّاسُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَتُصَلِّي الصُّبْحَ أَرْبَعًا ؟".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن بحینہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نماز کی اقامت ہو چکی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ایسے شخص پر پڑی جو دو رکعت سنت پڑھ رہا تھا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں نے اسے گھیر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو (فجر)، صبح کی چار رکعتیں پڑھتا ہے۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 1485 سے 1488)
یعنی اقامت (تکبیر) کے بعد کوئی نماز فرض نماز کے علاوہ پڑھنا حیرت انگیز اور غیر معروف تھا، اسی لئے صحابہ کرام انہیں گھیر کر بیٹھ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکیر کرتے ہوئے فرمایا: کیا صبح کی نماز چار رکعت پڑھتے ہو؟
یعنی اقامت (تکبیر) کے بعد کوئی نماز فرض نماز کے علاوہ پڑھنا حیرت انگیز اور غیر معروف تھا، اسی لئے صحابہ کرام انہیں گھیر کر بیٹھ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکیر کرتے ہوئے فرمایا: کیا صبح کی نماز چار رکعت پڑھتے ہو؟