حدیث نمبر: 1469
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيُّ، حَدَّثَنِي عَمِّي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "عَلِّمُوا الصَّبِيَّ الصَّلَاةَ ابْنَ سَبْعِ سِنِينَ، وَاضْرِبُوهُ عَلَيْهَا ابْنَ عَشْرٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

سبره (بن معبد جہنی) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات سال کے بچے کو نماز پڑھنا سکھاؤ اور جب دس سال کا ہو تو نماز پڑھنے کے لئے اسے مارو۔“

وضاحت:
(تشریح حدیث 1468)
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ بچہ جب سات سال کا ہو تو نماز پڑھنا سکھایا جائے تاکہ نماز کی عادت پڑے، اور جب دس سال کا ہو جائے اور نماز نہ پڑھے تو اس کی پٹائی کی جائے۔
واضح رہے کہ یہی حکم لڑکی کے لئے بھی ہے، ان کے اولیاء پر اس حکم کی تنفيذ واجب ہے، آج لوگ اپنے بچے بچیوں کو اپنی مرضی کے خلاف کام کرنے پر مارتے پیٹتے ہیں لیکن نماز نہ پڑھیں تو کوئی انہیں کچھ نہیں کہتا، کیونکہ خود والدین بھی اکثر بے نمازی ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ سب کو ہدایت دے۔
آمین۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الصللاة / حدیث: 1469
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده حسن
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 1471]» ¤ اس حدیث کی یہ سند حسن ہے، لیکن بمجموع طرق صحیح کے درجہ کو پہنچتی ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 494] ، [ترمذي 407] ، [طبراني 6546] ، [مشكل الآثار للطحاوي 231/3] ، [ابن خزيمه 1002] ، [الحاكم 258/1 وغيرهم]