سنن دارمي
من كتاب الصللاة— نماز کے مسائل
باب فَضْلِ صَلاَةِ الْغَدَاةِ وَصَلاَةِ الْعَصْرِ: باب: نماز فجر اور عصر کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1464
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ، فَهُوَ فِي جِوَارِ اللَّهِ، فَلَا تُخْفِرُوا اللَّهَ فِي جَارِهِ، وَمَنْ صَلَّى الْعَصْرَ، فَهُوَ فِي جِوَارِ اللَّهِ، فَلَا تُخْفِرُوا اللَّهَ فِي جَارِهِ" . قَالَ أَبُو مُحَمَّد: إِذَا أُمِّنَ وَلَمْ يَفِ، فَقَدْ غَدَرَ وَأَخْفَرَ.محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے فجر کی نماز پڑھ لی وہ اللہ کے جوار (پڑوس یا ذمے داری اور عہد و پیمان) میں ہے، پس تم اللہ کے عہد میں اس کے پیمان کو نہ توڑو، اور جو شخص عصر کی نماز پڑھ لے تو وہ بھی اللہ کے جوار میں ہے، پس تم اللہ کے جوار کو نہ توڑو۔“ امام دارمی رحمہ اللہ نے «اخفر» کے معنی بیان کرتے ہوئے فرمایا: جب انسان مامون ہو جائے اور عہد کو پورا نہ کرے تو گویا اس نے خیانت کی اور عہد کو توڑ دیا۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1461 سے 1464)
اس حدیث سے نمازِ فجر اور عصر کی فضیلت ثابت ہوئی۔
مسلم شریف کی روایت کے الفاظ ہیں: «مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللّٰهِ.» ”جس نے صبح کی نماز پڑھ لی وہ اللہ کی ذمہ داری میں ہے۔
“ اور یہ بہت بڑی فضیلت ہے، جو اللہ کی ذمہ داری میں ہو اسے کون چھو سکتا ہے، اور کون نقصان و تکلیف یا ضرر پہنچا سکتا ہے؟
اس حدیث سے نمازِ فجر اور عصر کی فضیلت ثابت ہوئی۔
مسلم شریف کی روایت کے الفاظ ہیں: «مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللّٰهِ.» ”جس نے صبح کی نماز پڑھ لی وہ اللہ کی ذمہ داری میں ہے۔
“ اور یہ بہت بڑی فضیلت ہے، جو اللہ کی ذمہ داری میں ہو اسے کون چھو سکتا ہے، اور کون نقصان و تکلیف یا ضرر پہنچا سکتا ہے؟