سنن دارمي
مقدمه— مقدمہ
باب مَنْ هَابَ الْفُتْيَا وَكَرِهَ التَّنَطُّعَ وَالتَّبَدُّعَ: باب: ان لوگوں کا بیان جنہوں نے فتوی دینے سے خوف کھایا اور غلو و زیادتی یا بدعت ایجاد کرنے کو برا سمجھا
حدیث نمبر: 146
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: صَبِيغٌ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَجَعَلَ يَسْأَلُ عَنْ مُتَشَابِهِ الْقُرْآنِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَدْ أَعَدَّ لَهُ عَرَاجِينَ النَّخْلِ، فَقَالَ: "مَنْ أَنْتَ ؟، قَالَ: أَنَا عَبْدُ اللَّهِ صَبِيغٌ، فَأَخَذَ عُمَرُ عُرْجُونًا مِنْ تِلْكَ الْعَرَاجِينِ، فَضَرَبَهُ وَقَالَ: أَنَا عَبْدُ اللَّهِ عُمَرُ فَجَعَلَ لَهُ ضَرْبًا حَتَّى دَمِيَ رَأْسُهُ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، حَسْبُكَ، قَدْ ذَهَبَ الَّذِي كُنْتُ أَجِدُ فِي رَأْسِي".محمد الیاس بن عبدالقادر
سلیمان بن یسار نے کہا: ایک شخص جس کا نام صبیغ تھا، مدینہ آ کر قرآن کی آیات متشابہات کے بارے میں پوچھنے لگا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کھجور کی ٹہنیاں منگائیں اور اسے بلا بھیجا، پوچھا تم کون ہو؟ جواب دیا میں اللہ کا بندہ صبیغ ہوں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان ٹہنیوں میں سے ایک ٹہنی اٹھائی اور کہا: میں اللہ کا بندہ عمر ہوں اور اس کی پٹائی شروع کر دی، یہاں تک کہ اس کا سر لہولہان ہو گیا تو اس نے کہا : بس کیجئے امیر المومنین، میرے سر میں جو شبہات در آئے تھے ختم ہو گئے۔