سنن دارمي
من كتاب الصللاة— نماز کے مسائل
باب كَرَاهِيَةِ الْمُرُورِ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي: باب: نمازی کے سامنے سے گزرنے سے کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 1454
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، أَنْبأَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَرْسَلَنِي أَبُو جُهَيْمٍ الْأَنْصَارِيُّ إِلَى زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَسْأَلُهُ مَا سَمِعَ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْ الْمُصَلِّي، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "لَأَنْ يَقُومَ أَحَدُكُمْ أَرْبَعِينَ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْ الْمُصَلِّي" . قَالَ: فَلَا أَدْرِي سَنَةً أَوْ شَهْرًا أَوْ يَوْمًا.محمد الیاس بن عبدالقادر
بسر بن سعید نے کہا: ابوجہیم انصاری نے مجھے سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ جو آدمی نمازی کے سامنے سے گزرے، اس بارے میں انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سنا ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی چالیس تک کھڑا رہے تو بہتر ہے اس کے لئے نمازی کے سامنے گزرنے سے۔“ سفیان بن عیینہ نے کہا: مجھے یاد نہیں کہ چالیس سال کہا یا چالیس مہینے یا دن کہا۔