سنن دارمي
من كتاب الصللاة— نماز کے مسائل
باب في تَزْوِيقِ الْمَسَاجِدِ: باب: مساجد کی تزئین و آرائش کا بیان
حدیث نمبر: 1446
أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک کہ لوگ مسجدوں پر فخر نہ کریں گے۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 1445)
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ قربِ قیامت لوگ ایک دوسرے پر فخر کریں گے کہ میری مسجد بلند، عمده، مزین اور نقش و نگار والی ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ضرورت سے زیادہ مسجدوں کی آرائش و زیبائش اور روشنی کرنا ممنوع ہے۔
مسجد کی اصل آرائش مسجدوں کو آباد رکھنا، ان میں نماز ادا کرنا، تلاوت کرنا اور درس و دروس وغیرہ کا اہتمام کرنا ہے۔
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ قربِ قیامت لوگ ایک دوسرے پر فخر کریں گے کہ میری مسجد بلند، عمده، مزین اور نقش و نگار والی ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ضرورت سے زیادہ مسجدوں کی آرائش و زیبائش اور روشنی کرنا ممنوع ہے۔
مسجد کی اصل آرائش مسجدوں کو آباد رکھنا، ان میں نماز ادا کرنا، تلاوت کرنا اور درس و دروس وغیرہ کا اہتمام کرنا ہے۔