سنن دارمي
من كتاب الصللاة— نماز کے مسائل
باب كَرَاهِيَةِ الْبُزَاقِ في الْمَسْجِدِ: باب: مسجد میں تھوکنے کی کراہت کا بیان
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، إِذْ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَتَغَيَّظَ عَلَى أَهْلِ الْمَسْجِدِ، وَقَالَ: "إِنَّ اللَّهَ قِبَلَ أَحَدِكُمْ إِذَا كَانَ فِي صَلَاتِهِ، فَلَا يَبْزُقَنَّ أَوْ قَالَ: لَا يَتَنَخَّعَنَّ"، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَحُكَّ مَكَانُهَا، وَأَمَرَ بِهَا فَلُطِخَتْ . قَالَ حَمَّادٌ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ: بِزَعْفَرَانٍ.سیدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ اسی اثناء میں مسجد کے قبلہ کی طرف (دیوار پر) بلغم کو دیکھا تو آپ کو حاضرین مسجد پر غصہ آ گیا اور آپ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز میں ہوتا ہے تو الله جل جلالہ اس کے سامنے ہوتا ہے“ (خطابی وغیرہ نے کہا اللہ کی رحمت یا اللہ کا قبلہ سامنے ہوتا ہے) ”اس لئے وہ ہرگز اپنے سامنے نہ تھوکے“ یا کہا ”ناک کا رینٹ نہ ڈالے“، پھر آپ نے حکم دیا اور اس جگہ کو کھرچ دیا گیا یا حکم دیا پس اسے پوت دیا گیا۔ حماد نے کہا: مجھے اس کے سوا علم نہیں کہ کہا زعفران سے پوت دیا گیا۔