سنن دارمي
من كتاب الصللاة— نماز کے مسائل
باب النَّهْيِ عَنْ مَسْحِ الْحَصَا: باب: نماز میں کنکری ہٹانے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 1426
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ، فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ، فَلَا يَمسْحِ الْحَصَا".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز کو کھڑا ہوتا ہے تو رحمت الٰہی اس کے سامنے ہوتی ہے، لہٰذا وہ کنکری نہ ہٹائے۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 1424 سے 1426)
ان احادیث سے نماز میں سجدے کی جگہ کو بار بار صاف کرنے کی ممانعت ہے، اگر بہت ہی ضروری ہو اور سجدہ کرنا مشکل ہو تو صرف ایک بار ایسا کرنے کی اجازت ہے، اور یہ اس لئے کہ یکسو ہو کر نماز پڑھے، نمازی کا ذہن ادھر ادھر نہیں بھٹکنا چاہیے اس لئے نماز میں ادھر ادھر التفات و توجہ کرنے، کپڑے سمیٹنے اور بال سدھارنے سے منع کیا گیا ہے۔
مؤمنین کی صفت یہ ہے کہ وہ اپنی نماز میں خشوع و خضوع اختیار کرتے ہیں اور یکسو ہو کر نماز پڑھتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ سب کو اس کی تو فیق بخشے۔
آمین۔
ان احادیث سے نماز میں سجدے کی جگہ کو بار بار صاف کرنے کی ممانعت ہے، اگر بہت ہی ضروری ہو اور سجدہ کرنا مشکل ہو تو صرف ایک بار ایسا کرنے کی اجازت ہے، اور یہ اس لئے کہ یکسو ہو کر نماز پڑھے، نمازی کا ذہن ادھر ادھر نہیں بھٹکنا چاہیے اس لئے نماز میں ادھر ادھر التفات و توجہ کرنے، کپڑے سمیٹنے اور بال سدھارنے سے منع کیا گیا ہے۔
مؤمنین کی صفت یہ ہے کہ وہ اپنی نماز میں خشوع و خضوع اختیار کرتے ہیں اور یکسو ہو کر نماز پڑھتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ سب کو اس کی تو فیق بخشے۔
آمین۔