حدیث نمبر: 1418
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مِخْوَلٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا سَاجِدٌ، وَقَدْ عَقَصْتُ شَعْرِي، أَوْ قَالَ: عَقَدْتُ"فَأَطْلَقَهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

ابورافع (مولی رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم) نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جوڑا باندھے ہوئے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھول دیا۔

وضاحت:
(تشریح حدیث 1417)
«عقص عقصا» بالوں کے گوندھنے، چوٹی بنانے یا جوڑا بنانے کو کہتے ہیں، اس حدیث کے پیشِ نظر علماء نے مردوں کے لئے جوڑا بنا کر نماز پڑھنے کو ناپسند کیا اور مکروہ جانا ہے کیونکہ اس میں عورتوں سے مشابہت پائی جاتی ہے۔
واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الصللاة / حدیث: 1418
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1420]
تخریج حدیث اس روایت کی سند صحیح ہے، لیکن اس لفظ سے صرف امام دارمی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے، دوسری کتب میں دوسرے سیاق سے ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 646] ، [ترمذي 384] ، [ابن حبان 2279] ، [موارد الظمآن 474]