سنن دارمي
مقدمه— مقدمہ
باب مَنْ هَابَ الْفُتْيَا وَكَرِهَ التَّنَطُّعَ وَالتَّبَدُّعَ: باب: ان لوگوں کا بیان جنہوں نے فتوی دینے سے خوف کھایا اور غلو و زیادتی یا بدعت ایجاد کرنے کو برا سمجھا
حدیث نمبر: 141
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَاضِرٍ الْأَزْدِيِّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ: أَوْصِنِي، فَقَالَ: نَعَمْ، "عَلَيْكَ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَالِاسْتِقَامَةِ، اتَّبِعْ وَلَا تَبْتَدِعْ".محمد الیاس بن عبدالقادر
عثمان بن حاضر ازدی نے کہا: میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اور عرض کیا کہ مجھے وصیت کیجئے، کہا : سنو! الله کا تقویٰ اختیار کرو اور اس پر قائم رہو ۔ اتباع کرو ابتداع سے بچو۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 140)
اس اثر میں تقویٰ کی وصیت اور استقامت کا درس ہے، نیز یہ کہ انسان بدعت سے پرہیز کرے اور صرف اتباع و اطاعت پر اکتفا کرے۔
اس اثر میں تقویٰ کی وصیت اور استقامت کا درس ہے، نیز یہ کہ انسان بدعت سے پرہیز کرے اور صرف اتباع و اطاعت پر اکتفا کرے۔