حدیث نمبر: 141
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَاضِرٍ الْأَزْدِيِّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ: أَوْصِنِي، فَقَالَ: نَعَمْ، "عَلَيْكَ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَالِاسْتِقَامَةِ، اتَّبِعْ وَلَا تَبْتَدِعْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

عثمان بن حاضر ازدی نے کہا: میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اور عرض کیا کہ مجھے وصیت کیجئے، کہا : سنو! الله کا تقویٰ اختیار کرو اور اس پر قائم رہو ۔ اتباع کرو ابتداع سے بچو۔

وضاحت:
(تشریح حدیث 140)
اس اثر میں تقویٰ کی وصیت اور استقامت کا درس ہے، نیز یہ کہ انسان بدعت سے پرہیز کرے اور صرف اتباع و اطاعت پر اکتفا کرے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / مقدمه / حدیث: 141
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده ضعيف لضعف زمعة، [مكتبه الشامله نمبر: 141]
تخریج حدیث یہ اثر اس سند سے ضعیف ہے۔ دیکھئے: [الإبانة 200] ، [الفقيه والمتفقه 173/1] ، [البدع والنهى عنها ص:25] میں اسی سند سے مذکور ہے، لیکن مروزی نے [السنة 83] میں بسند حسن ذکر کیا ہے۔