سنن دارمي
من كتاب الصللاة— نماز کے مسائل
باب التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ: باب: نماز میں بھول چوک ہونے پر مردوں کے تسبیح کہنے اور عورتوں کی تصفیق کا بیان
حدیث نمبر: 1403
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.محمد الیاس بن عبدالقادر
اس سند سے بھی سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی (مذکورہ بالا روایت) کے مثل حدیث روایت کی ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1400 سے 1403)
نماز میں امام سے کوئی بھول چوک ہو جائے تو مردوں کو سبحان اللہ کہنا چاہیے اور عورتیں ہاتھ کی پشت پر ہاتھ ماریں تاکہ امام متنبہ ہو جائے، بعض نسخ میں «التصفيح للنساء» بھی آیا ہے جس کے معنی ہیں ہاتھ پر ہاتھ مارنا، یا ہتھیلی کو ہتھیلی پر مارنا۔
امام قسطلانی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ کھیل کے طور پر تالی بجانے سے نماز فاسد ہو جائے گی۔
نماز میں امام سے کوئی بھول چوک ہو جائے تو مردوں کو سبحان اللہ کہنا چاہیے اور عورتیں ہاتھ کی پشت پر ہاتھ ماریں تاکہ امام متنبہ ہو جائے، بعض نسخ میں «التصفيح للنساء» بھی آیا ہے جس کے معنی ہیں ہاتھ پر ہاتھ مارنا، یا ہتھیلی کو ہتھیلی پر مارنا۔
امام قسطلانی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ کھیل کے طور پر تالی بجانے سے نماز فاسد ہو جائے گی۔