سنن دارمي
مقدمه— مقدمہ
باب مَنْ هَابَ الْفُتْيَا وَكَرِهَ التَّنَطُّعَ وَالتَّبَدُّعَ: باب: ان لوگوں کا بیان جنہوں نے فتوی دینے سے خوف کھایا اور غلو و زیادتی یا بدعت ایجاد کرنے کو برا سمجھا
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مِسْعَرٍ، قَالَ: أَخْرَجَ إِلَيَّ مَعْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ كِتَابًا، فَحَلَفَ لِي بِاللَّهِ أَنَّهُ خَطُّ أَبِيه، فَإِذَا فِيهِ: قَال عَبْدُ اللَّهِ: "وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَشَدَّ عَلَى الْمُتَنَطِّعِينَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَشَدَّ عَلَيْهِمْ مِنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَإِنِّي لَأَرَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ أَشَدَّ خَوْفًا عَلَيْهِمْ أَوْ لَهُمْ".مسعر نے کہا: معن بن عبدالرحمن نے میرے لئے ایک کتاب نکالی اور قسم کھا کر کہا کہ وہ ان کے والد کے خط سے لکھی ہوئی ہے، دیکھا تو اس میں لکھا ہے عبداللہ سے مروی ہے انہوں نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے غلو کرنے والوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی کو اتنا شدید و سخت نہیں دیکھا، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے زیادہ ان پر کسی کو اتنا سختی کرنے والا نہیں دیکھا، اور اب میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھ رہا ہوں کہ ان (متنطعين) سے ڈرنے یا ان پر ڈرنے والا اُن سے زیادہ کوئی نہیں۔
اس روایت میں دین میں غلو کرنے والوں سے بچنے اور ان کا گھیرا تنگ کرنے کی ترغیب ہے۔