حدیث نمبر: 140
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مِسْعَرٍ، قَالَ: أَخْرَجَ إِلَيَّ مَعْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ كِتَابًا، فَحَلَفَ لِي بِاللَّهِ أَنَّهُ خَطُّ أَبِيه، فَإِذَا فِيهِ: قَال عَبْدُ اللَّهِ: "وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَشَدَّ عَلَى الْمُتَنَطِّعِينَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَشَدَّ عَلَيْهِمْ مِنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَإِنِّي لَأَرَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ أَشَدَّ خَوْفًا عَلَيْهِمْ أَوْ لَهُمْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

مسعر نے کہا: معن بن عبدالرحمن نے میرے لئے ایک کتاب نکالی اور قسم کھا کر کہا کہ وہ ان کے والد کے خط سے لکھی ہوئی ہے، دیکھا تو اس میں لکھا ہے عبداللہ سے مروی ہے انہوں نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے غلو کرنے والوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی کو اتنا شدید و سخت نہیں دیکھا، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے زیادہ ان پر کسی کو اتنا سختی کرنے والا نہیں دیکھا، اور اب میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھ رہا ہوں کہ ان (متنطعين) سے ڈرنے یا ان پر ڈرنے والا اُن سے زیادہ کوئی نہیں۔

وضاحت:
(تشریح احادیث 138 سے 140)
اس روایت میں دین میں غلو کرنے والوں سے بچنے اور ان کا گھیرا تنگ کرنے کی ترغیب ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / مقدمه / حدیث: 140
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 140]
تخریج حدیث اس روایت کی اسناد صحیح ہے، اور اسے [ابوبكر بن ابي شيبه 6480] اور انہیں کی سند سے [أبويعلی 5022] اور [طبراني 10367] نے ذکر کیا ہے۔