حدیث نمبر: 1392
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: "أُمِرْنَا أَنْ نُسَبِّحَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَنَحْمَدَهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَنُكَبِّرَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ"، فَأُتِيَ رَجُلٌ أَوْ أُرِيَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فِي الْمَنَامِ، فَقِيلَ: أَمَرَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُسَبِّحُوا اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدُوا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتُكَبِّرُوا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ ؟ قَالَ: نَعَمْ . قَالَ: فَاجْعَلُوهَا خَمْسًا وَعِشْرِينَ، خَمْسًا وَعِشْرِينَ، وَاجْعَلُوا مَعَهَا التَّهْلِيلَ، فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: "افْعَلُوهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمیں ہر نماز کے بعد 33 بار «سبحان الله» ، 33 بار «الحمد لله» ، 34 بار «الله اكبر» کہنے کا حکم دیا گیا، تو انصار میں سے ایک آدمی کو خواب میں کہا گیا کہ تمہارے پیغمبر نے تم کو ہر نماز کے بعد 33 بار تسبیح کا، 33 بار تحمید کا اور 34 بار تکبیر کا حکم دیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، تو اس نے کہا: ان کو 25، 25 بار کہو اور 25 بار «لا اله الا الله» کہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس خواب کا تذکرہ کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا ہی کر لو۔“

وضاحت:
(تشریح حدیث 1391)
مومن کا خواب سچا ہوتا ہے لیکن خواب سے شرعی احکام کا ثبوت نہیں ہوتا، یہ خواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں دیکھا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے درست قرار دیا جو ہو سکتا ہے الہام یا وحی کے ذریعے سے ہو، بہر حال اس طرح ہر کلمہ 25، 25 بار پڑھنا بھی درست ہے اور 33، 33، 34 بار پڑھنا بھی صحیح ہے اور اس کی بڑی فضیلت ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الصللاة / حدیث: 1392
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1394]» ¤ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [نسائي 1349] ، [ابن حبان 2017]