سنن دارمي
من كتاب الصللاة— نماز کے مسائل
باب الدُّعَاءِ بَعْدَ التَّشَهُّدِ: باب: تشہد میں دعا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1382
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، نَحْوَهُ.محمد الیاس بن عبدالقادر
اوزاعی سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1380 سے 1382)
تشہد میں التحیات اور درود و سلام کے بعد دعا کرنے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار دیا ہے جو چاہیں دعا کریں جیسا کہ گذر چکا ہے۔
مذکورہ بالا روایت میں حکم ہے کہ چار چیزوں سے پناہ مانگو اس لئے بعض علماء نے اس دعا یعنی: «اَللّٰهُمَّ أَعُوْبِكَ» کو تشہد میں پڑھنا واجب کہا ہے۔
اسی طرح «اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ ظُلْمًا كَثِيْرًا وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلَّا أَنْتَ فَاغْفِرْ لِيْ مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ وَارْحَمْنِيْ إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمْ.» کہنا بھی ماثور و درست ہے، نیز «رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِيْ الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ.» کہنا بھی سنّت ہے، اس کے علاوہ بھی کئی دعائیں ہیں جو تشہد میں پڑھنا سنّت ہے۔
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے تشہد میں صرف ان دعاؤں کے پڑھنے کو ترجیح دی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھنی ثابت ہیں۔
تشہد میں التحیات اور درود و سلام کے بعد دعا کرنے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار دیا ہے جو چاہیں دعا کریں جیسا کہ گذر چکا ہے۔
مذکورہ بالا روایت میں حکم ہے کہ چار چیزوں سے پناہ مانگو اس لئے بعض علماء نے اس دعا یعنی: «اَللّٰهُمَّ أَعُوْبِكَ» کو تشہد میں پڑھنا واجب کہا ہے۔
اسی طرح «اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ ظُلْمًا كَثِيْرًا وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلَّا أَنْتَ فَاغْفِرْ لِيْ مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ وَارْحَمْنِيْ إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمْ.» کہنا بھی ماثور و درست ہے، نیز «رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِيْ الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ.» کہنا بھی سنّت ہے، اس کے علاوہ بھی کئی دعائیں ہیں جو تشہد میں پڑھنا سنّت ہے۔
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے تشہد میں صرف ان دعاؤں کے پڑھنے کو ترجیح دی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھنی ثابت ہیں۔