حدیث نمبر: 1362
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: "يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ، أَلَا إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا، فَأَمَّا الرُّكُوعُ، فَعَظِّمُوا رَبَّكُمْ، وَأَمَّا السُّجُودُ، فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ، فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: (اپنی بیماری میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ اٹھایا تو لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صفیں لگائے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! نبوت کی خوش خبری دینے والی چیزوں میں سے اب کوئی باقی نہیں رہی سوائے نیک و اچھے خواب کے جو کوئی مسلمان دیکھے، یا اس کے بارے میں کسی اور کو دکھایا جائے۔ سنو، رکوع و سجود میں (كلام الله) پڑھنے کی مجھے ممانعت کی گئی ہے، سو تم رکوع میں تو اپنے رب کی بڑائی بیان کرو، اور سجدے میں دعا کی کوشش کرو، امید ہے قبول کی جائے۔“

حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الصللاة / حدیث: 1362
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1364]
تخریج حدیث یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 479] ، [أبوداؤد 876] ، [نسائي 1119] ، [ابن ماجه 3899] ، [أبويعلی 417] ، [ابن حبان 1896] ، [الحميدي 495]