سنن دارمي
مقدمه— مقدمہ
باب مَنْ هَابَ الْفُتْيَا وَكَرِهَ التَّنَطُّعَ وَالتَّبَدُّعَ: باب: ان لوگوں کا بیان جنہوں نے فتوی دینے سے خوف کھایا اور غلو و زیادتی یا بدعت ایجاد کرنے کو برا سمجھا
حدیث نمبر: 133
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا قَبِيصَةُ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ، عَنْ زُبَيْدٍ، قَالَ: "مَا سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ شَيْءٍ إِلَّا عَرَفْتُ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهِ".محمد الیاس بن عبدالقادر
زبید الیامی نے کہا: میں نے ابراہیم سے جب بھی کسی بارے میں مسئلہ دریافت کیا تو ان کے چہرے پر ناپسندیدگی محسوس کی۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 131 سے 133)
ان روایات میں ابراہیم سے مراد ابراہیم بن یزید النخعی ہیں جو اپنے وقت کے امام وفقیہ اور ثقہ تھے۔
دیکھئے: [تقريب التهذيب 301]۔
ان روایات میں ابراہیم سے مراد ابراہیم بن یزید النخعی ہیں جو اپنے وقت کے امام وفقیہ اور ثقہ تھے۔
دیکھئے: [تقريب التهذيب 301]۔