سنن دارمي
من كتاب الصللاة— نماز کے مسائل
باب كَيْفَ الْعَمَلُ بِالْقِرَاءَةِ في الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ: باب: ظہر اور عصر کی نماز میں قرأت کس طرح ہو ؟
حدیث نمبر: 1328
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبأَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ "يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ بِأُمِّ الْكِتَابِ وَبِسُورَتَيْنِ، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ بِأُمِّ الْكِتَابِ، وَكَانَ يُسْمِعُنَا الْآيَةَ، وَكَانَ يُطِيلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مَا لَا يُطِيلُ فِي الثَّانِيَةِ، وَهَكَذَا فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ، وَهَكَذَا فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ".محمد الیاس بن عبدالقادر
عبداللہ بن ابوقتادہ نے بیان کیا کہ ان کے والد (سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ) نے ان سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعت میں سورۂ فاتحہ اور دو سورتیں پڑھتے تھے، اور آخری دو رکعت میں صرف سورۂ فاتحہ پڑھتے، اور کبھی کبھی ہم کو آیت سنا دیتے تھے، اور پہلی رکعت لمبی کرتے، دوسری رکعت اتنی لمبی نہ کرتے، اسی طرح عصر کی نماز میں اور اسی طرح فجر کی نماز میں قرأت لمبی کرتے تھے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1325 سے 1328)
ان روایات سے فجر، ظہر اور عصر کی نماز میں قرأت لمبی کرنے کا ثبوت ملا، نیز یہ کہ ظہر کی پہلی رکعت میں لمبی قرأت اور دوسری میں اس سے کم، تیسری اور چوری میں صرف سورۂ فاتحہ کی قرأت کرنی چاہئے، کبھی کبھی سرّی نماز میں ایک آدھ جملہ یا آیت بآواز بلند کہنا بھی درست ہے، نیز یہ کہ نماز اور قرأت منظم طریقے سے پڑھنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت ہے۔
ان روایات سے فجر، ظہر اور عصر کی نماز میں قرأت لمبی کرنے کا ثبوت ملا، نیز یہ کہ ظہر کی پہلی رکعت میں لمبی قرأت اور دوسری میں اس سے کم، تیسری اور چوری میں صرف سورۂ فاتحہ کی قرأت کرنی چاہئے، کبھی کبھی سرّی نماز میں ایک آدھ جملہ یا آیت بآواز بلند کہنا بھی درست ہے، نیز یہ کہ نماز اور قرأت منظم طریقے سے پڑھنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت ہے۔