حدیث نمبر: 132
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: "خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِ إِبْرَاهِيمَ، فَاسْتَقْبَلَنِي حَمَّادٌ، فَحَمَّلَنِي ثَمَانِيَةَ أَبْوَابٍ، مَسَائِلَ، فَسَأَلْتُهُ، فَأَجَابَنِي عَنْ أَرْبَعٍ وَتَرَكَ أَرْبَعًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر

عبدالله بن ادریس نے اپنے چچا سے بیان کیا کہ میں ابراہیم النخعی کے پاس سے نکلا تو حماد رحمہ اللہ نے میرا استقبال کیا اور مجھے آٹھ قسم کے مسائل پوچھنے کو کہا، میں نے ابراہیم سے ان کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے چار مسائل کا جواب دیا اور چار قسم کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔

حوالہ حدیث سنن دارمي / مقدمه / حدیث: 132
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): ، [مكتبه الشامله نمبر: 132]
تخریج حدیث اس روایت میں عبداللہ بن ادریس کے چچا داؤد بن یزید ضعیف ہیں، لہٰذا یہ سند ضعیف ہے اور صرف امام دارمی نے اسے روایت کیا ہے۔