سنن دارمي
من كتاب الصللاة— نماز کے مسائل
باب إِذَا حَضَرَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ: باب: جب کھانا سامنے ہو اور اقامت ہو جائے تو کیا حکم ہے
حدیث نمبر: 1316
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا حَضَرَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب شام کا کھانا سامنے ہو اور اقامت کہی جائے تو پہلے کھانا کھا لو۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 1314 سے 1316)
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ نماز کے وقت اگر کھانا تیار ہو اور بھوک لگی ہو تو پہلے کھانے سے فارغ ہو جائیں تاکہ نماز پورے سکون و اطمینان سے ادا کی جائے اور دل و دماغ کھانے میں نہ لگار ہے۔
یہ اسلام کی رحمت و برکت ہے۔
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ نماز کے وقت اگر کھانا تیار ہو اور بھوک لگی ہو تو پہلے کھانے سے فارغ ہو جائیں تاکہ نماز پورے سکون و اطمینان سے ادا کی جائے اور دل و دماغ کھانے میں نہ لگار ہے۔
یہ اسلام کی رحمت و برکت ہے۔