سنن دارمي
من كتاب الصللاة— نماز کے مسائل
باب في فَضْلِ صَلاَةِ الْجَمَاعَةِ: باب: جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1311
أَخْبَرَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَلَى صَلَاتِهِ وَحْدَهُ سَبْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کی جماعت کے ساتھ کی نماز اکیلے پڑھنے سے ستائیس گنا زیادہ ہے۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 1309 سے 1311)
آدمی اکیلے نماز پڑھے تو صرف ایک نماز کا ثواب اور جماعت کے ساتھ نماز ادا کرے تو 25 یا 27 نمازوں کا ثواب ملتا ہے۔
صحیحین کی روایت میں ہے کہ نماز باجماعت 27 نمازوں سے بھی افضل ہے۔
اس سے نماز باجماعت کی فضیلت معلوم ہوئی، اور ان دونوں روایات میں کوئی تعارض نہیں کیونکہ ہو سکتا ہے کسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے 25 کہا ہو اور کسی وقت 27 کہا ہو۔
آدمی اکیلے نماز پڑھے تو صرف ایک نماز کا ثواب اور جماعت کے ساتھ نماز ادا کرے تو 25 یا 27 نمازوں کا ثواب ملتا ہے۔
صحیحین کی روایت میں ہے کہ نماز باجماعت 27 نمازوں سے بھی افضل ہے۔
اس سے نماز باجماعت کی فضیلت معلوم ہوئی، اور ان دونوں روایات میں کوئی تعارض نہیں کیونکہ ہو سکتا ہے کسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے 25 کہا ہو اور کسی وقت 27 کہا ہو۔