حدیث نمبر: 1308
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ فِتْيَانِي فَيَجْمَعُوا حَطَبًا، فَآمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ، ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى أَقْوَامٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنْ هَذِهِ الصَّلَاةِ، فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ، لَوْ كَانَ عَرْقًا سَمِينًا، أَوْ مُعَرَّقَتَيْنِ لَشَهِدُوهَا، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا، لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ارادہ کر لیا (تھا) کہ اپنے جوانوں کو حکم دوں کہ وہ لکڑیاں جمع کریں پھر کسی آدمی کو حکم دوں کہ وہ نماز پڑھائے، پھر میں ان لوگوں کی طرف جاؤں جو اس نماز سے پیچھے رہ جاتے ہیں (حاضر نہیں ہوتے) اور انہیں ان کے گھروں سمیت جلا دوں، اگر ایک اچھے قسم کے گوشت کی ہڈی یا کم گوشت کی دو پسلیاں ملنے کا علم ہو جائے تو وہ ضرور مسجد میں حاضر ہوں، اور اگر ان کو ان نمازوں کا اجر و فضیلت معلوم ہو جائے تو وہ (گھٹنوں کے بل) گھسٹتے ہوئے چلے ہیں۔“

وضاحت:
(تشریح حدیث 1307)
اس حدیث کے پیشِ نظر کچھ علمائے کرام نے نمازِ باجماعت کو واجب قرار دیا ہے کیونکہ اگر یہ صرف سنّت ہوتی تو جماعت کے چھوڑنے والے کو آگ میں زندہ جلانے کی دھمکی نہ دی جاتی، بعض علماء نے کہا کہ یہ تنبیہ منافقین کے لئے تھی اس لئے واجب نہیں، جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا سنّت ہے، بہر حال جماعت کی فضیلت سے انکار ممکن نہیں۔
سماحۃ الشيخ ابن باز رحمہ اللہ فرض نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنے کو واجب قرار دیتے تھے اور ان کا فتویٰ ہے کہ قدرت رکھتے ہوئے کوئی شخص فرض نماز جماعت سے ادا نہ کرے تو گھر میں اس کی نماز نہ ہوگی۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الصللاة / حدیث: 1308
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده حسن
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 1310]» ¤ اس سند سے یہ روایت حسن ہے، لیکن حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 644] ، [مسلم 651] ، [مسند أبى يعلی 6338] ، [ابن حبان 2096] ، [مسند الحميدي 986]