سنن دارمي
من كتاب الصللاة— نماز کے مسائل
باب مَا أُمِرَ الإِمَامُ مِنَ التَّخْفِيفِ في الصَّلاَةِ: باب: امام کو خفیف (ہلکی) نماز پڑھانے کا بیان
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنْبأَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَتَأَخَّرُ عَنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ مِمَّا يُطِيلُ بِنَا فِيهَا فُلَانٌ، فَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ غَضَبًا فِي مَوْعِظَةٍ مِنْهُ يَوْمَئِذٍ . فَقَالَ: "أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ، فَمَنْ صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيَتَجَوَّزْ، فَإِنَّ فِيهِمْ الْكَبِيرَ وَالضَّعِيفَ وَذَا الْحَاجَةِ".سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! قسم اللہ کی میں فلاں شخص کی لمبی نماز کی وجہ سے فجر کی نماز میں لیٹ ہو جاتا ہوں، راوی نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دن سے زیادہ کبھی وعظ و نصحیت میں اتنے شدید غیظ و غضب میں نہیں دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! تم میں سے بعض لوگ نفرت پھیلانے والے ہیں، جو لوگوں کو نماز پڑھائے اس کو چاہیے کہ وہ ہلکی نماز پڑھائے، کیونکہ (اس کے پیچھے ان) نمازیوں میں سے کوئی بوڑھا، کوئی ضعیف اور کوئی ضرورت والا ہو گا۔“