سنن دارمي
من كتاب الصللاة— نماز کے مسائل
باب مَنْ أَحَقُّ بِالإِمَامَةِ: باب: امامت کرانے کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے ؟
حدیث نمبر: 1288
أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا اجْتَمَعَ ثَلَاثَةٌ، فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ، وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تین آ دمی جمع ہو جائیں تو ان میں سے ایک جو سب سے زیا دہ (قرآن) پڑھا ہو وہی ان کی امامت کا حقدار ہے۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 1286 سے 1288)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو سب سے زیادہ قرآن پڑھا ہوا ہو وہ امامت کرانے کا حق دار ہے۔
[مسلم شريف 672] میں تفصیل سے ہے کہ امامت جو سب سے زیادہ قرآن کا قاری ہو وہ کرائے، اور سب ہی ایک جیسے ہوں تو جو سب سے زیادہ حدیث کا علم رکھتا ہے وہ نماز پڑھائے، اس میں بھی سب برابر ہوں تو جو ہجرت کے اعتبار سے سب پر مقدم ہو وہ امامت کرائے۔
إلخ۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو سب سے زیادہ قرآن پڑھا ہوا ہو وہ امامت کرانے کا حق دار ہے۔
[مسلم شريف 672] میں تفصیل سے ہے کہ امامت جو سب سے زیادہ قرآن کا قاری ہو وہ کرائے، اور سب ہی ایک جیسے ہوں تو جو سب سے زیادہ حدیث کا علم رکھتا ہے وہ نماز پڑھائے، اس میں بھی سب برابر ہوں تو جو ہجرت کے اعتبار سے سب پر مقدم ہو وہ امامت کرائے۔
إلخ۔