حدیث نمبر: 1280
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "إِذَا قَالَ الْإِمَامُ: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 فَقُولُوا: آمِينَ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَقُولُ: آمِينَ، وَإِنَّ الْإِمَامَ يَقُولُ: آمِينَ، فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام «غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ» پڑھے تو تم آمین کہو، اس لئے کہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں اور امام بھی آمین کہتا ہے، پس جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے سے موافقت کر گیا اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔“

وضاحت:
(تشریح احادیث 1278 سے 1280)
ان دونوں حدیثوں سے آمین کہنے کی فضیلت معلوم ہوئی۔
نیز یہ کہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں اور امام بھی آمین کہتے ہیں اس لئے مقتدی حضرات کو بھی بآوازِ بلند آمین کہنی چاہیے تاکہ گناہوں کا کفارہ ہو جائے، اس کی ایک اور دلیل آگے آ رہی ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الصللاة / حدیث: 1280
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1282]» ¤ یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 782] ، [مسلم 410] ، [أبوداؤد 936] ، [ترمذي 250] ، [نسائي 927] ، [أبويعلی 5874] ، [ابن حبان 1804]