سنن دارمي
من كتاب الصللاة— نماز کے مسائل
باب لاَ صَلاَةَ إِلاَّ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ: باب: بنا سورۂ فاتحہ کوئی نماز نہیں
حدیث نمبر: 1276
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِأُمِّ الْكِتَابِ، فَلَا صَلَاةَ لَهُ".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ام القرآن (فاتحہ) نہ پڑھے اس کی نماز ہی نہیں ہے۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 1275)
حدیث کا لفظ، «لَا صَلَاةَ» ہے جو نکرہ ہے اور عموم پر دلالت کرتا ہے، معانی یہ ہیں کہ وہ نماز فرض ہو یا نفل، سرّی ہو یا جہری، امام کے ساتھ ہو یا منفرد، اس میں سورۂ فاتحہ نہ پڑھی جائے تو وہ نماز صحیح نہیں ہوگی، اس لئے ہر نماز کی ہر رکعت میں فاتحہ پڑھنی چاہئے، اکیلے پڑھتے ہوں یا امام کے پیچھے، ہر صورت میں سورۂ فاتحہ پڑھنا چاہئے۔
حدیث کا لفظ، «لَا صَلَاةَ» ہے جو نکرہ ہے اور عموم پر دلالت کرتا ہے، معانی یہ ہیں کہ وہ نماز فرض ہو یا نفل، سرّی ہو یا جہری، امام کے ساتھ ہو یا منفرد، اس میں سورۂ فاتحہ نہ پڑھی جائے تو وہ نماز صحیح نہیں ہوگی، اس لئے ہر نماز کی ہر رکعت میں فاتحہ پڑھنی چاہئے، اکیلے پڑھتے ہوں یا امام کے پیچھے، ہر صورت میں سورۂ فاتحہ پڑھنا چاہئے۔