أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ،، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: "مَا رَأَيْتُ قَوْمًا كَانُوا خَيْرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا سَأَلُوهُ إِلَّا عَنْ ثَلَاثَ عَشْرَةَ مَسْأَلَةً حَتَّى قُبِضَ، كُلُّهُنَّ، فِي الْقُرْآنِ مِنْهُنَّ، يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ سورة البقرة آية 217، وَ وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ سورة البقرة آية 222، قَالَ: مَا كَانُوا يَسْأَلُونَ إِلَّا عَمَّا يَنْفَعُهُمْ".سیدنا عبداللہ عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے بہتر لوگ نہیں دیکھے، اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی میں صرف ۱۳ مسئلے آپ سے پوچھے تھے، جو سب کے سب قرآن پاک میں مذکور ہیں، جیسے: «﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ ...﴾» (البقرة : ۲۱۷/۲) ”لوگ آپ سے شہر حرام کے بارے میں پوچھتے ہیں“ ، «﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ...﴾» (البقرة: ۲۲۲/۲) ”لوگ آپ سے حیض کے مسائل دریافت کرتے ہیں۔“ نیز انہوں نے بتایا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم صرف وہی سوال اور مسئلہ پوچھتے تھے جو انہیں سودمند ہوتا۔