سنن دارمي
من كتاب الصللاة— نماز کے مسائل
باب التَّغْلِيسِ في الْفَجْرِ: باب: فجر کی نماز اندھیرے میں پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1250
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: "كُنَّ نِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّينَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ، ثُمَّ يَرْجِعْنَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ قَبْلَ أَنْ يُعْرَفْنَ".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجر کی نماز پڑھتی تھیں، پھر وہ اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی واپس لوٹتی تھیں، اس وقت سے پہلے کہ وہ پہچان لی جائیں۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 1249)
یعنی اتنے سویرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑھتے تھے کہ واپسی میں بھی اندھیرے کی وجہ سے عورتیں پہچانی نہیں جاتی تھیں۔
یعنی اتنے سویرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑھتے تھے کہ واپسی میں بھی اندھیرے کی وجہ سے عورتیں پہچانی نہیں جاتی تھیں۔