سنن دارمي
من كتاب الصللاة— نماز کے مسائل
باب مَا يُسْتَحَبُّ مِنْ تَأْخِيرِ الْعِشَاءِ: باب: عشاء کی نماز تاخیر سے پڑھنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 1249
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، أَنْبأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ . وَابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ الصَّلَاةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الصَّلَاةَ، نَامَ النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ، فَخَرَجَ وَهُوَ يَمْسَحُ الْمَاءَ عَنْ شِقِّهِ، وَهُوَ يَقُولُ: "هُوَ الْوَقْتُ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات نماز عشاء کو مؤخر کیا، عرض کیا گیا: نماز اے اللہ کے رسول، عورتیں اور بچے سو چکے ہیں، لہٰذا آپ باہر تشریف لائے اور آپ کے پہلو سے پانی ٹپک رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”یہی (اس نماز کا) وقت ہے اگر میری امت پر مشقت نہ ہو۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 1245 سے 1249)
ان تمام روایات سے ثابت ہوا کہ عشاء کی نماز میں تاخیر افضل ہے، لیکن قربان جایئے نبیٔ رحمت پر کہ اُمّت پر مشقت کے خیال سے اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ عشاء بھی اوّل وقت میں پڑھی۔
نمازِ عشاء کا وقت غيابِ شفق سے رات کے پہلے ایک تہائی حصہ تک ہے، لہٰذا نمازِ عشاء آدھی رات میں یا آخر اللیل تک مؤخر کرنا درست نہیں، ایسی صورت میں وہ قضا نماز ہوگی، ہاں وتر اور تہجد طلوعِ صبح سے پہلے پڑھنا افضل ہے۔
ان تمام روایات سے ثابت ہوا کہ عشاء کی نماز میں تاخیر افضل ہے، لیکن قربان جایئے نبیٔ رحمت پر کہ اُمّت پر مشقت کے خیال سے اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ عشاء بھی اوّل وقت میں پڑھی۔
نمازِ عشاء کا وقت غيابِ شفق سے رات کے پہلے ایک تہائی حصہ تک ہے، لہٰذا نمازِ عشاء آدھی رات میں یا آخر اللیل تک مؤخر کرنا درست نہیں، ایسی صورت میں وہ قضا نماز ہوگی، ہاں وتر اور تہجد طلوعِ صبح سے پہلے پڑھنا افضل ہے۔