حدیث نمبر: 1245
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّاسِ بِوَقْتِ هَذِهِ الصَّلَاةِ يَعْنِي: صَلَاةَ الْعِشَاءِ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "يُصَلِّيهَا لِسُقُوطِ الْقَمَرِ لِثَالِثَةٍ" . قَالَ يَحْيَى: أَمْلاهُ عَلَيْنَا مِنْ كِتَابِهِ عَنْ بَشِيرِ بْنِ ثَابِتٍ.محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں سب لوگوں سے زیادہ اس نماز کے وقت کا علم رکھتا ہوں (یعنی عشاء کی نماز کا وقت)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت (عشاء کی نماز) پڑھتے تھے جب کہ تیسری رات کا چاند ڈوبتا ہے۔ یحییٰ نے کہا: امام دارمی رحمہ اللہ نے اس روایت کو اپنی کتاب سے بشیر بن ثابت کے طریق سے املا کرایا۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 1244)
یعنی اوّل وقت میں غیابِ شفق کے بعد فوراً آپ عشاء کی نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔
یعنی اوّل وقت میں غیابِ شفق کے بعد فوراً آپ عشاء کی نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔