سنن دارمي
من كتاب الصللاة— نماز کے مسائل
باب الأَذَانِ مَثْنَى مَثْنَى وَالإِقَامَةُ مَرَّةً: باب: اذان دہری اور اقامت اکہری کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 1229
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي قِلابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، نَحْوَهُ.محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1225 سے 1229)
ان تمام روایاتِ صحیحہ سے ثابت ہوا کہ اذان کے کلمات دو دو بار اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار کہے جا ئیں گے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو ایسا ہی حکم دیا تھا، بعض روایات میں اقامت (یعنی تکبیر) کے کلمات بھی اذان کی طرح دو دو بار کہنا مروی ہے، لیکن اکہری اقامت کہنے کی روایت اصح اور متفق علیہ ہے۔
واللہ اعلم
ان تمام روایاتِ صحیحہ سے ثابت ہوا کہ اذان کے کلمات دو دو بار اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار کہے جا ئیں گے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو ایسا ہی حکم دیا تھا، بعض روایات میں اقامت (یعنی تکبیر) کے کلمات بھی اذان کی طرح دو دو بار کہنا مروی ہے، لیکن اکہری اقامت کہنے کی روایت اصح اور متفق علیہ ہے۔
واللہ اعلم