حدیث نمبر: 1222
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ، حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاقُوسِ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
محمد الیاس بن عبدالقادر

محمد بن عبداللہ بن زید بن عبدربہ نے کہا: میرے والد عبدالله بن زید نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناقوس کا حکم فرمایا ۔ ۔ ۔ اور پھر مذکورہ بالا حدیث بیان کی۔

وضاحت:
(تشریح احادیث 1220 سے 1222)
ان تمام روایات سے اذان کی ابتداء، اس کی مشروعیت اور کیفیت ثابت ہوتی ہے، نیز یہ کہ ا قامت کے الفاظ («قد قامت الصلاة» اور «اللّٰه أكبر» ) کے علاوہ اکہرے یعنی ایک ایک بار ہی کہے جائیں گے۔
اور خواب کے ذریعہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں حلت یا مشروعیت ثابت ہوگی، وفات کے بعد نہیں۔
نیز یہ کہ مومن کا خواب سچا ہوتا ہے۔
واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الصللاة / حدیث: 1222
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1225]» ¤ اس حدیث کا حوالہ اوپر گذر چکا ہے۔