حدیث نمبر: 122
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ هُوَ ابْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ هُوَ ابْنُ عُرْوَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: "مَا زَالَ أَمْرُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُعْتَدِلًا لَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ حَتَّى نَشَأَ فِيهِمْ الْمُوَلَّدُونَ، أَبْنَاءُ سَبَايَا الْأُمَمِ، أَبْنَاءُ النِّسَاءِ الَّتِي سَبَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ مِنْ غَيْرِهِمْ، فَقَالُوا فِيهِمْ: بِالرَّأْيِ فَأَضَلُّوهُمْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

عروہ بن زبیر نے کہا: بنی اسرائیل میں اعتدال قائم تھا اور کوئی خلاف شرع بات ان میں نہ تھی، پھر جب نئی نسل اور دیگر اقوام کے قیدی اور لونڈیوں کی پود آئی تو انہوں نے (دین میں) اپنی رائے داخل کر دی اور انہیں گمراہ کر دیا۔

وضاحت:
(تشریح حدیث 121)
اس روایت سے رائے اور قیاس کی مذمت ظاہر ہوتی ہے جو یقیناً گمراہی کی طرف لے جاتی ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / مقدمه / حدیث: 122
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 122]
تخریج حدیث اس روایت کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [جامع بيان العلم 1774] ، [المعرفة والتاريخ للفسوي 93/3]