حدیث نمبر: 1183
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْحَنَفِيِّ، حَدَّثَنِي جُمَيْعُ بْنُ عُمَيْرٍ أَحَدُ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أُمِّي وَخَالَتِي عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَسَأَلَتْهَا إِحْدَاهُمَا: كَيْفَ تَصْنَعِينَ عِنْدَ الْغُسْلِ ؟، فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "يَتَطَهَّرُ طُهُورَهُ لِلصَّلَاةِ، وَيُفِيضُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَنَحْنُ نُفِيضُ عَلَى رُءُوسِنَا خَمْسًا مِنْ أَجْلِ الضَّفْرِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

بنی تیم الله بن ثعلبہ کے ایک فرد جمیع بن عمیر نے کہا کہ میں اپنی ماں اور خالہ کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، ان میں سے ایک نے ان سے پوچھا: آپ غسل کس طرح کرتی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے وقت نماز کا سا وضو کرتے تھے، پھر اپنے سر پرتین بار پانی بہاتے، اور ہم چٹیوں کی وجہ سے پانچ بار سر پر پانی ڈالتے ہیں۔

حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1183
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 1188]
تخریج حدیث اس روایت کی سند جمیع بن عمیر کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ أبوداؤد 241] ، [بيهقي 180/1] ، [ابن ماجه 574] ۔ «ضَفْر» گندھی ہوئی زلفوں کی ایک لٹ کو کہتے ہیں۔