سنن دارمي
من كتاب الطهارة— وضو اور طہارت کے مسائل
باب إِتْيَانِ النِّسَاءِ في أَدْبَارِهِنَّ: باب: عورتوں کے دبر میں جماع کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1156
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: لَقَدْ عَرَضْتُ الْقُرْآنَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ثَلَاثَ عَرَضَاتٍ، أَقِفُ عِنْدَ كُلِّ آيَةٍ أَسْأَلُهُ فِيمَ أُنْزِلَتْ، وَفِيمَ كَانَتْ ؟، فَقُلْتُ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى: فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ سورة البقرة آية 222، قَالَ: "مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمْ أَنْ تَعْتَزِلُوهُنَّ".محمد الیاس بن عبدالقادر
مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو تین بار قرآن پڑھ کر سنایا اس طرح کہ ہر آیت پر رک کر پوچھتا کہ کس بارے میں وہ آیت نازل ہوئی، اس کا مطلب کیا تھا؟ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ «﴿فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ﴾» [البقرة: 222/2] کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ فرمایا: اس کا مطلب ہے ( «من حيت امركم ان تعتزلوهن» ) آیت کا مطلب ہے کہ جب وہ پاک ہو جائیں تو جیسا الله کا حکم ہے اس طرح ان کے پاس جاؤ، تو انہوں نے کہا: جس طرح کا حکم سے مراد ہے ان سے علاحدگی اختیار کرنا۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 1155)
یعنی حالتِ حیض میں جس جگہ سے دور رہو جب پاک ہو جائیں غسل کر لیں تو اسی جگہ سے اپنی حاجت ان سے پوری کرو۔
یعنی حالتِ حیض میں جس جگہ سے دور رہو جب پاک ہو جائیں غسل کر لیں تو اسی جگہ سے اپنی حاجت ان سے پوری کرو۔