حدیث نمبر: 1115
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: سُئِلَ سُفْيَانُ: "أَيُجَامِعُ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِذَا انْقَطَعَ عَنْهَا الدَّمُ قَبْلَ أَنْ تَغْتَسِلَ ؟، فَقَالَ: لَا، فَقِيلَ: أَرَأَيْتَ إِنْ تَرَكَتْ الْغُسْلَ يَوْمَيْنِ أَوْ أَيَّامًا ؟، قَالَ: تُسْتَتَابُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

سفیان رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ حائضہ عورت کا خون رک جائے تو غسل سے پہلے شوہر اس سے جماع کر سکتا ہے؟ فرمایا: نہیں، دریافت کیا گیا: اگر ایک یا دو دن تک وہ غسل نہ کرے تو؟ فرمایا: توبہ کرائی جائے گی۔

حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1115
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1119]
تخریج حدیث اس روایت کی سند صحیح ہے، لیکن کہیں اور یہ روایت نہیں ملی۔ توبہ شاید اس لئے کرائی جائے گی کہ اس نے بلا جواز دو دن تک غسل کر کے نماز نہیں پڑھی۔ واللہ اعلم۔