حدیث نمبر: 1106
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ مُغِيرَةَ، قَالَ: أَرْسَلَ أَبُو ظَبْيَانَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ يَسْأَلُهُ عَنْ الْحَائِضِ تُوَضِّئُ الْمَرِيضَ ؟، قَالَ: "نَعَمْ، وَتُسْنِدُهُ"، قَالَ: لَا، فَقُلْتُ لِلْمُغِيرَةِ: سَمِعْتَهُ مِنْ إِبْرَاهِيمَ ؟، قَالَ: لَا، قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَتُسْنِدُهُ يَعْنِي فِي الصَّلَاةِ.
محمد الیاس بن عبدالقادر

شعبہ نے بیان کیا کہ میں نے مغیرہ کو کہتے سنا کہ ابوظبیان نے امام ابراہیم رحمہ اللہ کے پاس قاصد بھیجا کہ حائضہ کے بارے میں دریافت کرے کہ وہ مریض کو وضو کرا سکتی ہے؟ ابراہیم رحمہ اللہ نے جواب دیا: ہاں، کہا: نماز میں اس کو سہارا بھی دے سکتی ہے؟ کہا: نہیں۔ شعبہ نے کہا: میں نے مغیرہ سے پوچھا: تم نے خود ابراہیم رحمہ اللہ سے سنا؟ کہا: نہیں۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: «وتسنده» : یعنی اس کو نماز میں سہارا دے سکتی ہے؟ (جس کا انہوں نے جواب دیا کہ نماز میں نہیں)۔

حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1106
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده ضعيف لانقطاعه، [مكتبه الشامله نمبر: 1110]
تخریج حدیث اس روایت کی سند میں انقطاع ہے، لہٰذا ضعیف ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 202/1] و [مصنف عبدالرزاق 1259]