حدیث نمبر: 1043
أَخْبَرَنَا أَبُو زَيْدٍ سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ ذَرًّا، عَنْ وَائِلِ بْنِ مُهَانَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلنِّسَاءِ: "تَصَدَّقْنَ، فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ"، فَقَالَتْ امْرَأَةٌ لَيْسَتْ مِنْ عِلْيَةِ النِّسَاءِ: لِمَ، أَوْ بِمَ، أَوْ فِيمَ ؟، قَالَ: "إِنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَةَ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ"، قَالَ: وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: مَا مِنْ نَاقِصِي الدِّينِ وَالْعَقْلِ أَغْلَبَ لِلرِّجَالِ ذَوِي الْأَمْرِ عَلَى أَمْرِهِمْ مِنْ النِّسَاءِ، قَالَ رَجُلٌ لِعَبْدِ اللَّهِ: مَا نُقْصَانُ عَقْلِهَا ؟، قَالَ: جُعِلَتْ شَهَادَةُ امْرَأَتَيْنِ بِشَهَادَةِ رَجُلٍ، قَالَ سُئِلَ: مَا نُقْصَانُ دِينِهَا ؟ قَالَ: تَمْكُثُ كَذَا وَكَذَا مِنْ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ لَا تُصَلِّي لِلَّهِ صَلَاةً.
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا: ”صدقہ کیا کرو کیونکہ جہنم میں تم سب سے زیادہ ہو گی“، ایک عورت نے جو معروف نہ تھی، عرض کیا: ایسا کیوں ہے؟ فرمایا: ”اس لئے کہ تم لعن طعن زیادہ کرتی ہو، شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔“ راوی نے کہا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے دین اور عقل میں نقص کے باوجود صاحب حیثیت لوگوں پر عورتوں کے معاملے میں تم سے زیادہ غالب آنے والا نہیں دیکھا۔ ایک آدمی نے کہا: عقل کا نقص کیا ہے؟ کہا: دو عورتوں کی شہادت ایک مرد کے برابر ہے، کہا دین کے نقص کے بارے میں پوچھا گیا تو کہا: وہ کتنی راتیں اور دن بیٹھی رہتی ہیں، اللہ کے لئے کوئی نماز نہیں پڑھتی ہیں۔

حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1043
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده حسن من أجل وائل بن مهانة، [مكتبه الشامله نمبر: 1047]
تخریج حدیث اس روایت کی یہ سند حسن ہے، لیکن اس کی اصل صحیحین میں موجود ہے۔ دیکھئے: [بخاري 304] و [مسلم 885] ۔ نیز دیکھئے: [مسند أبى يعلي 5112] و [مسند الحميدي 92] و [صحيح ابن حبان 3323]