سنن دارمي
من كتاب الطهارة— وضو اور طہارت کے مسائل
باب الْحَائِضِ تَسْمَعُ السَّجْدَةَ فَلاَ تَسْجُدُ: باب: حائضہ اگر آیت سجدہ سنے تو سجدہ نہ کرے
أَخْبَرَنَا أَبُو زَيْدٍ سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ ذَرًّا، عَنْ وَائِلِ بْنِ مُهَانَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلنِّسَاءِ: "تَصَدَّقْنَ، فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ"، فَقَالَتْ امْرَأَةٌ لَيْسَتْ مِنْ عِلْيَةِ النِّسَاءِ: لِمَ، أَوْ بِمَ، أَوْ فِيمَ ؟، قَالَ: "إِنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَةَ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ"، قَالَ: وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: مَا مِنْ نَاقِصِي الدِّينِ وَالْعَقْلِ أَغْلَبَ لِلرِّجَالِ ذَوِي الْأَمْرِ عَلَى أَمْرِهِمْ مِنْ النِّسَاءِ، قَالَ رَجُلٌ لِعَبْدِ اللَّهِ: مَا نُقْصَانُ عَقْلِهَا ؟، قَالَ: جُعِلَتْ شَهَادَةُ امْرَأَتَيْنِ بِشَهَادَةِ رَجُلٍ، قَالَ سُئِلَ: مَا نُقْصَانُ دِينِهَا ؟ قَالَ: تَمْكُثُ كَذَا وَكَذَا مِنْ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ لَا تُصَلِّي لِلَّهِ صَلَاةً.سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا: ”صدقہ کیا کرو کیونکہ جہنم میں تم سب سے زیادہ ہو گی“، ایک عورت نے جو معروف نہ تھی، عرض کیا: ایسا کیوں ہے؟ فرمایا: ”اس لئے کہ تم لعن طعن زیادہ کرتی ہو، شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔“ راوی نے کہا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے دین اور عقل میں نقص کے باوجود صاحب حیثیت لوگوں پر عورتوں کے معاملے میں تم سے زیادہ غالب آنے والا نہیں دیکھا۔ ایک آدمی نے کہا: عقل کا نقص کیا ہے؟ کہا: دو عورتوں کی شہادت ایک مرد کے برابر ہے، کہا دین کے نقص کے بارے میں پوچھا گیا تو کہا: وہ کتنی راتیں اور دن بیٹھی رہتی ہیں، اللہ کے لئے کوئی نماز نہیں پڑھتی ہیں۔