سنن دارمي
مقدمه— مقدمہ
باب التَّوَرُّعِ عَنِ الْجَوَابِ فِيمَا لَيْسَ فِيهِ كِتَابٌ وَلاَ سُنَّةٌ: باب: ایسا فتوی دینے سے احتیاط برتنے کا بیان جس کے بارے میں قرآن و حدیث سے دلیل نہ ہو
حدیث نمبر: 103
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ، قَالَ: "مَا خَطَبَ عَبْدُ اللَّهِ خُطْبَةً بِالْكُوفَةِ إِلَّا شَهِدْتُهَا، فَسَمِعْتُهُ يَوْمًا، وَسُئِلَ عَنْ رَجُلٍ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثَمَانِيَةً وَأَشْبَاهِ ذَلِكَ، قَالَ: هُوَ كَمَا، قَالَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ كِتَابَهُ وَبَيَّنَ بَيَانَهُ، فَمَنْ أَتَى الْأَمْرَ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ فَقَدْ بُيِّنَ لَهُ، وَمَنْ خَالَفَ فَوَاللَّهِ مَا نُطِيقُ خِلَافَكُمْ".محمد الیاس بن عبدالقادر
نزال بن سبرہ نے کہا: سیدنا عبدالله (ابن مسعود) رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں جو بھی خطبہ دیا میں اس میں حاضر رہا، ایک دن میں نے انہیں کہتے سنا، ان سے ایسے آدمی کے بارے میں دریافت کیا گیا جو اپنی بیوی کو آٹھ بار طلاق دیدے۔ انہوں نے جواب دیا جتنی اس نے کہا واقع ہو گئیں، بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب نازل فرمائی اور اس کی وضاحت فرما دی، اب جو آدمی اس کے مطابق عمل کرے تو الله تعالیٰ نے اسے واضح کر دیا، اور جس نے مخالفت کی اللہ کی قسم ہم تو تمہاری (طرح) مخالفت کی طاقت نہیں رکھتے۔