سنن دارمي
من كتاب الطهارة— وضو اور طہارت کے مسائل
باب في الْحَائِضِ تَقْضِي الصَّوْمَ وَلاَ تَقْضِي الصَّلاَةَ: باب: حائضہ عورت کے روزہ قضا کرنے اور نماز قضا نہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1024
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاذَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا سَأَلَتْهَا امْرَأَةٌ: أَتَقْضِي الْحَائِضُ الصَّلَاةَ ؟، قَالَتْ: "أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ ؟ قَدْ حِضْنَ نِسَاءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُنَّ يَجْزِينَ"، قَالَ عَبْد اللَّهِ: مَعْنَاهُ أَنَّهُنَّ لَا يَقْضِينَ.محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک عورت نے پوچھا: کیا حائضہ نماز کی قضا کرے گی؟ جواب دیا: کیا تم حروریہ ہو؟ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو حیض آتا، کیا آپ نے انہیں قضاء کا حکم دیا؟ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: اس کا مطلب ہے ازواج مطہرات قضا نہیں کرتی تھیں۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1017 سے 1024)
کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قضا کا حکم دیا ہے؟ یہ استفہام انکاری ہے یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کوئی حکم کسی کو نہیں دیا۔
خلاصہ یہ کہ حائضہ پر نماز کی قضا نہیں ہے، البتہ روزہ قضاء کرے گی۔
کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قضا کا حکم دیا ہے؟ یہ استفہام انکاری ہے یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کوئی حکم کسی کو نہیں دیا۔
خلاصہ یہ کہ حائضہ پر نماز کی قضا نہیں ہے، البتہ روزہ قضاء کرے گی۔