حدیث نمبر: 1016
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ: أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَتَقْضِي إِحْدَانَا صَلَاةَ أَيَّامِ حَيْضِهَا؟، فَقَالَتْ: "أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ؟ قَدْ كَانَتْ إِحْدَانَا تَحِيضُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا تُؤْمَرُ بِقَضَاءٍ" .
محمد الیاس بن عبدالقادر

معاذه (بنت عبداللہ) سے مروی ہے ایک عورت نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: ہم میں سے کوئی اپنے ایام حیض کی نماز قضا کرے گی؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا تم حروریہ ہو؟ ہم رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں حائضہ ہوتی تھیں اور ہم کو قضا کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔

وضاحت:
(تشریح احادیث 1011 سے 1016)
حرور ایک گاؤں کا نام ہے جس کی طرف خوارج منسوب ہوتے ہیں جو صرف قرآن کو دلیل مانتے ہیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف جنہوں نے بغاوت کی، قرآن پاک میں یہ مسئلہ مذکور نہیں اس لئے اس عورت سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تم حروریہ تو نہیں ہو؟ جسے حدیث کے ماننے سے انکار ہو۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1016
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): حديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1020]
تخریج حدیث یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 321] ، [مسلم 335] ، [مسند الموصلي 2637] ، [ابن حبان 349]