أنه صلى الله عليه وسلم أخذ القلم من يد على فدفعه الي معاوية
حافظ عمران ایوب لاہوری
” نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے علی کے ہاتھ سے قلم پکڑ کر معاویہ کے حوالے کر دیا ۔ “
أن جماعة من بني هاشم سألوا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يحول الكتابة من معاوية فنزل الوحي باختياره
حافظ عمران ایوب لاہوری
” بنو ہاشم کی ایک جماعت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ آپ معاویہ سے کتابت وحی ختم کر دیں تو ان کے اختیار کے متعلق وحی نازل ہو گئی ۔ “
اول من يختصم من هذه الأمة بين يدي الرب على و معاوية
حافظ عمران ایوب لاہوری
” اس امت میں سے پروردگار کے سامنے سب سے پہلے علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما جھگڑا کریں گے ۔ “
حبيبي قد اهديت هذا القلم من فوق عرشي الي معاوية . . .
حافظ عمران ایوب لاہوری
” (جبرئیل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں) اے میرے حبیب ! میں نے یہ قلم اپنے عرش کے اوپر سے معاویہ کی طرف بطور تحفہ بھیجا ہے ۔ “
فاستشار جبريل فقال استكتبه فانه امين
حافظ عمران ایوب لاہوری
” نبی صلی اللہ علیہ وسلم (معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں) جبرئیل علیہ السلام سے مشورہ کیا توہ انہوں نے فرمایا ، ان سے (وحی) لکھوائیے یقیناً یہ امانت دار ہیں ۔ “
الامناء عند الله ثلاثة : أنا و جبريل و معاوية
حافظ عمران ایوب لاہوری
” اللہ کے نزدیک تین امانت دار ہیں : میں ، جبرئیل علیہ السلام اور معاویہ رضی اللہ عنہ ۔ “
ادعوا لي معاوية . . . فانه قوي امين
حافظ عمران ایوب لاہوری
” معاویہ رضی اللہ عنہ کو میرے پاس بلاؤ ۔ ۔ ۔ یقیناً وہ قوت والا اور امانت دار ہے ۔ “
أن النبى صلى الله عليه وسلم ناول معاوية سهما وقال خذ هٰذا السهم حتي تلقاني به فى الجنة
حافظ عمران ایوب لاہوری
” نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ، معاویہ رضی اللہ عنہ کو ایک تیر پکڑایا اور فرمایا کہ اسے تھامے رکھنا حتی کہ تم اس کے ساتھ جنت میں مجھ سے ملاقات کرو ۔ “
فأعطي معاوية ثلاث سفر جلات وقال تلقاني بهن فى الجنة
حافظ عمران ایوب لاہوری
” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو تین رجسٹر دیے اور فرمایا کہ تم ان کے ساتھ مجھے جنت میں ملو گے ۔ “
يبعث معاوية يوم القيامة وعليه رداء من نور الايمان
حافظ عمران ایوب لاہوری
” معاویہ رضی اللہ عنہ کو روز قیامت اٹھایا جائے گا تو اس پر ایمانی نور کی چادر ہو گی ۔ “
لكل امة فرعون و فرعون هذه الأمة معاوية
حافظ عمران ایوب لاہوری
” ہر امت کا ایک فرعون ہوتا ہے اور اس امت کا فرعون معاویہ ہے ۔ “
اذا رأيتم معاوية يخطب على منبري فاقتلوا
حافظ عمران ایوب لاہوری
” جب تم معاویہ کو میرے منبر پر خطبہ دیتے دیکھو توہ اسے قتل کر دو ۔ “
معاوية بن ابي سفيان أحلم امتي وأجودها
حافظ عمران ایوب لاہوری
” معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ میرے امت میں سب سے زیادہ حلیم اور سخی ہے ۔ “