كل سبب و نسب منقطع يوم القيامة الا سببي ونسبي
حافظ عمران ایوب لاہوری
” روز قیامت ہر سبب و نسب منقطع ہو جائے گا سوائے میرے سبب و نسب کے ۔ “
هبط جبريل على فقال ان الله يقرئك السلام ويقول اني حرمت النار على صلب أنزلك وبطن حملك و حجر كفلك . . .
حافظ عمران ایوب لاہوری
” جبرئیل علیہ السلام مجھ پر اترے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کہتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ میں نے آگ کو حرام کر دیا ہے اس صلب (عبداللہ) پر جس سے آپ کا انزال ہوا ، ، اس پیٹ (آمنہ) پر جس نے آپ کو اٹھایا اور اس گود (عبد المطلب) پر جس نے آپ کی کفالت کی ۔ “
هبط على جبريل فقال يا محمد ان الله يقرا عليك السلام ويقول يا حبيبي اني كسوت حسن يوسف من نور الكرسي و كسوت حسن و جهك من نور عرشي
حافظ عمران ایوب لاہوری
” جبرئیل علیہ السلام مجھ پر اترے اور فرمایا کہ اے محمد ! اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کہتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اے میرے حبیب ! میں نے یوسف علیہ السلام کو اپنی کرسی کے نور سے حسن چڑھایا اور آپ کے چہرے کو اپنے عرش کے نور سے حسن چڑھایا ۔ “
أن جبريل أتي النبى صلى الله عليه وسلم بقطف فقال ان الله يقرئك السلام وبعثني اليك بهذا القطف لتأكله
حافظ عمران ایوب لاہوری
” جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انگوروں کا خوشہ لے کر تشریف لائے اور فرمایا : اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کہتے ہیں اور مجھے یہ خوشہ دے کر آپ کے پاس اس لیے بھیجا ہے تاکہ آپ اسے کھائیں ۔ “
شفعت فى هؤلاء النفرفي أبى وعمي أبى طالب وأخي من الرضاعة يعني ابن السعدية
حافظ عمران ایوب لاہوری
” ان حضرات کے بارے میں میری سفارش قبول کی گئی ہے ، میرے والد ، میرے چچا ابوطالب اور میرے رضاعی بھائی ابن سعدیہ ۔ “
ان الله أعطي موسي الكلام و أعطاني الرؤية فضلني بالمقام المحمود والحوض المورود
حافظ عمران ایوب لاہوری
” اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام کو کلام عطا فرمایا مگر مجھے رؤیت (یعنی اپنا دیدار) عطا فرمایا اور مجھے مقام محمود اور حوض مورود کے ساتھ فضیلت بخشی ۔ “
أنه صلى الله عليه وسلم أعطي رجلا عرق ذراعيه وجعله فى قارورة حتي امتلأت فجعل يتطيب به فيشم منه أهل المدينة ريحا طيبة . . .
حافظ عمران ایوب لاہوری
” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنے بازووں کا پسینہ دیا ، اس نے اسے ایک بوتل میں ڈالا حتیٰ کہ وہ بھر گئی ، پھر وہ اس سے خوشبو لگاتا اور مدینہ کے لوگ اس سے عمدہ خوشبو سونگھتے ۔ “
لما نزل اذا جاء نصر الله والفتح قال محمد يا جبريل نفسي قد نعيت . . .
حافظ عمران ایوب لاہوری
” جب یہ آیت «اذا جاء نصرالله والفتح» نازل ہوئی تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے جبرئیل ! میرے نفس کو موت کی اطلاع دی گئی ہے ۔ “
من صلى عليك فى اليوم واليلة مائة مرة صليت عليه ألفي صلاة وتقضي له ألف حاجة
حافظ عمران ایوب لاہوری
” (اے پیغمبر !) جس نے آپ پر شب و روز میں سو مرتبہ درود بھیجا میں اس پر دو ہزار مرتبہ رحمت نازل کروں گا اور اس کی ایک ہزار نعمتیں پوری کی جائیں گی ۔ “
من صلى على عند قبري سمعته . . .
حافظ عمران ایوب لاہوری
” جو میری قبر کے پاس مجھ پر درود بھیجتا ہے میں اسے سن لیتا ہوں ۔ “
كنت أول النبيين فى الخلق وآخرهم فى البعث
حافظ عمران ایوب لاہوری
” میں تخلیق کے اعتبار سے پہلا نبی ہوں اور بعثت کے اعتبار سے آخری ہوں ۔ “
ما مات رسول الله صلى الله عليه وسلم حتي قراء وكتب
حافظ عمران ایوب لاہوری
” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک فوت نہیں ہوئے جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھ پڑھ نہیں لیا ۔ “
اسمي فى القران محمد وفي الانجيل احمد وفي التوراة أحيد
حافظ عمران ایوب لاہوری
” میرا نام قرآن میں محمد ہے ، انجیل میں احمد ہے اور تورات میں احید ہے ۔ “
نهي عن الصرف قبل موته بشهرين
حافظ عمران ایوب لاہوری
” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے دو ماہ قبل تصرف سے منع فرمایا تھا ۔ “
تعبد رسول الله صلى الله عليه وسلم قبل موته بشهرين واعتزل النساء
حافظ عمران ایوب لاہوری
” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات سے دو ماہ قبل عبادت کے لیے علیحدہ ہو گے تھے اور عورتوں سے بھی جدا ہو گے تھے ۔ “
المعرفة رأس مالي والعقل أصل ديني والحسب أساسي . . .
حافظ عمران ایوب لاہوری
” معرفت میرا اصل مال ہے، عقل میرے دین کی بنیاد ہے اور حسب میری اساس ہے ۔ “
ان سبابة النبى صلى الله عليه وسلم كانت أطول من الوسطي
حافظ عمران ایوب لاہوری
” نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سبابہ انگلی (یعنی انگشت شہادت) درمیانی انگلی سے طویل تھی ۔ “
ولدت فى زمن الملك العادل
حافظ عمران ایوب لاہوری
” ملک عادل (یعنی انوشیروان) کے دور میں میری پیدائش ہوئی ۔ “
لا تجعلوني كقدح الراكب
حافظ عمران ایوب لاہوری
” مجھے کسی سوار کے پیالے کی طرح نہ بناؤ (یعنی میرے ذکر میں تاخیر نہ کرو کیونکہ سوار اپنا پیالہ سواری کے پچھلی جانب لٹکا تا ہے ۔ النہایۃ) ۔ “
اذا سميتم الولد محمدا فعظموه و وقروه . . .
حافظ عمران ایوب لاہوری
” اگر تم کسی بچے کا نام محمد رکھو تو پھر اس کی عزت و تکریم بھی کرو (اس کی تذلیل نہ کرو) ۔ “