کتب حدیثمجموعه ضعيف احاديثابوابباب: قربانی تمہارے باپ ابرہیم علیہ السلام کی سنت
حدیث نمبر: 948
قالوا يا رسول الله ما هذه الأضاحى ؟ قال : سنة أبيكم ابراهيم ، قالوا ما لنا منها قال بكل شعرة حسنة
حافظ عمران ایوب لاہوری
” صحابہ نے عرض کیا ، اے اللہ کے رسول ! یہ قربانیاں کیا ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہیں ۔“ صحابہ نے عرض کیا ، ہمارے لئے ان میں کیا ثواب ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہر بال کے بدلے نیکی ہے ۔“
حوالہ حدیث مجموعه ضعيف احاديث / حدیث: 948
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث {«ضعيف»} :
حافظ بوصیری رحمہ الله نے فرمايا ہے كہ اس كی سند میں نفيع بن حارث راوی متروک ہے۔ [مصباح الزجاجة 223/3]
ابن طاہر مقدسی رحمہ الله نے اس راوی کو غیر ثقہ کہا ہے۔ [معرفة التذكرة ص: 172]
شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو موضوع کہا ہے۔ [الضعيفة 527]
شیخ شعیب ارناؤوط نے اس کی سند کو سخت ضعیف کہا ہے اور فرمایا ہے کہ اس میں نفیع راوی متروک اور عائذ اللہ مجاشعی ضعیف ہے۔ [مسند أحمد محقق 19283]