تخریج حدیث{«ضعيف»} : حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس کی سند ساقط ہے۔ [بلوغ المرام 176/1] شیخ حوت رحمہ الله نے فرمایا ہے کہ اس کی سند میں سوار بن مصعب راوی متروک ہے۔ [أسنى المطالب ص: 218] شیخ البانی رحمہ الله نے اس روایت کو ضعیف کہا ہے۔ [ضعيف الجامع 4244]