کتب حدیثمجموعه ضعيف احاديثابوابباب: عزت ، مال یا حسن کی وجہ سے عورت سے نکاح
حدیث نمبر: 776
من تزوج امرأة لعزها لم يزده الله الا ذلا ومن تزوجها لمالها لم يزده الله الا فقرا ومن تزوجها لحسنها لم يزده الله الا دناءة ومن تزوج امرأة لم يتزوجها الا ليغض بصره أو ليحصن فرجه أو يصل رحمه بارك الله له فيها وبارك لها فيه
حافظ عمران ایوب لاہوری
”جو کسی عورت سے اس کی عزت کی وجہ سے شادی کرے اللہ تعالیٰ اسے صرف ذلت میں بڑھاتے ہیں ، جو اس کے مال کی وجہ سے شادی کرے اللہ تعالیٰ اسے صرف محتاجی میں بڑھاتے ہیں ، جو اس کے حسن کی وجہ سے شادی کرے اللہ تعالیٰ اسے کمینگی میں بڑھاتے ہیں اور جو اپنی نظر جھکانے یا شرمگاہ کی حفاظت یا رشتہ داری ملانے کے لیے شادی کرے تو اللہ اس کے لیے عورت میں اور عورت کے لیے اس میں برکت ڈال دیتے ہیں ۔“
حوالہ حدیث مجموعه ضعيف احاديث / حدیث: 776
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث {«موضوع»} :
امام سیوطی رحمہ الله اور امام ابن جوزی رحمہ الله نے اسے موضوع کہا ہے۔ [اللآلي المصنوعة 137/2] ، [الموضوعات 258/2]
امام ہیثمی رحمہ الله نے فرمایا ہے کہ اس میں عبدالسلام بن عبدالقدوس راوی ضعیف ہے۔ [مجمع الزوائد 467/4]
امام شوکانی رحمہ الله نے فرمایا ہے کہ یہ راوی من گھڑت روایتیں بیان کرتا ہے۔ [الفوائد المجموعة ص: 121]
شیخ البانی رحمہ الله نے اس روایت کو ایک مقام پر سخت ضعیف اور دوسرے مقام پر موضوع کہا ہے۔ [الضعيفة 1055] ، [ضعيف الترغيب 1208]
حدیث نمبر: 777
لا تزوجوا النساء لحسنهن فعسى حسنهن أن يرديهن ولا تزوجوهن لأموالهن فعسى أموالهن أن تطغيهن ولكن تزوجوهن على الدين ولأمة خرماء سوداء ذات دين أفضل
حافظ عمران ایوب لاہوری
”عورتوں سے ان کے حسن کی وجہ سے شادی نہ کرو ، قریب ہے کہ ان کا حسن انہیں خراب کر دے اور ان سے ان کے اموال کی وجہ سے شادی نہ کرو ، قریب ہے کہ ان کے اموال انہیں سرکش بنا دیں ، البتہ دین کی بنیاد پر ان سے نکاح کرو اور دیندار سیاہ رنگ کی کان میں سوراخ والی ناک کٹی لونڈی بھی (بےدین حسینہ و مالدار سے) افضل ہے ۔“
حوالہ حدیث مجموعه ضعيف احاديث / حدیث: 777
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث {«ضعيف»} :
[ضعيف ابن ماجة 409] ، [الضعيفة 1060] ، [ابن ماجة 1859] اس روایت کی سند میں عبدالرحمٰن بن زیاد الافریقی راوی ضعیف ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اسے «ضعيف فى حفظه» کہا ہے۔
امام أحمد بن حنبل رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ یہ کچھ حیثیت نہیں رکھتا۔
امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف کہا ہے۔
امام ابن حبان رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ ثقات سے موضوع روایات بیان کرتا ہے اور تدلیس کرتا ہے۔ [تقريب 4309] ، [العلل 88/1] ، [الضعفاء 361] ، [الكامل 379/5] ، [المجروحين 50/2]