تخریج حدیث{«موضوع»} : امام ابن جوزی رحمہ الله نے اس روایت کو موضوع کہا ہے۔ [الموضوعات 258/2] امام شوکانی رحمہ الله نے نقل فرمایا ہے کہ اس کی سند میں خالد بن اسماعیل راوی حدیثیں گھڑتا تھا اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ المطالب العالیہ میں فرماتے ہیں کہ یہ حدیث منکر ہے۔ [الفوائد المجموعة ص: 120] امام سیوطی رحمہ الله نے فرمایا ہے کہ یہ روایت صحیح نہیں۔ [اللآلي المصنوعة 136/2] امام سخاوی رحمہ الله نے فرمایا ہے کہ اس میں معاویہ بن یحییٰ صدفی راوی ضعیف ہے۔ [المقاصد الحسنة ص: 404] شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف کہا ہے۔ [الضعيفة 2511]