کتب حدیثمجموعه ضعيف احاديثابوابباب: جنازے میں خواتین کی شرکت
حدیث نمبر: 731
دعها يا عمر !
حافظ عمران ایوب لاہوری
”(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے میں شریک تھے کہ عمر رضی اللہ عنہ ایک عورت کو دیکھ کر چونک اٹھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) اے عمر ! اسے چھوڑ دو ۔ “ “
حوالہ حدیث مجموعه ضعيف احاديث / حدیث: 731
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث {«ضعيف»} :
[ضعيف ابن ماجة 346] ، [الضعيفة 3603] ، [ضعيف الجامع 2987]
حدیث نمبر: 732
فاذا نسوة جلوس قال ما يجلسكن قلن ننتظر الجنازة . . .
حافظ عمران ایوب لاہوری
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز گھر سے نکلے تو راستے میں کچھ خواتین کو بیٹھے دیکھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیوں بیٹھی ہو ؟ انہوں نے کہا: ہم جنازے کا انتظار کر رہی ہیں ۔ یہ سن کر آپ نے انہیں ڈانٹتے ہوئے واپس لوٹ جانے کا حکم دیا ۔“
حوالہ حدیث مجموعه ضعيف احاديث / حدیث: 732
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث {«ضعيف»} :
امام نووی رحمہ الله نے فرمایا ہے کہ اس میں اسماعیل بن سلمان ازرق راوی ضعیف ہے۔ [خلاصة الأحكام 3594]
امام ابن جوزی رحمہ اللہ نے اسے اپنی ضعیف روایات پر مشتمل کتاب «”العلل المتناهية“» میں ذکر فرمایا ہے۔ [العلل المتناهية 902/2]
شیخ البانی رحمہ الله نے اسے ضعیف کہا ہے۔ [ضعيف ابن ماجة 344] ، [الضعيفة 2742]
حدیث نمبر: 733
لا خير فى جماعة النساء الا فى مسجد أو فى جنازة قتيل
حافظ عمران ایوب لاہوری
”مسجد میں یا کسی مقتول کے جنازے کے علاوہ عورتوں کی جماعت میں خیر نہیں۔“
حوالہ حدیث مجموعه ضعيف احاديث / حدیث: 733
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث {«ضعيف»} :
امام ابن جوزی رحمہ الله اور امام ہیثمی رحمہ الله نے فرمایا ہے کہ اس میں ابن لہیعہ راوی ضعیف ہے۔ [العلل المتناهية 898/2] ، [مجمع الزوائد 2104]
شیخ شعیب ارناؤوط نے بھی اسی راوی کی وجہ سے اس کی سند کو ضعیف کہا ہے۔ [مسند أحمد محقق 24421]
حدیث نمبر: 734
ليس للنساء فى اتباع الجنائز أجر
حافظ عمران ایوب لاہوری
”جنازے کے پیچھے چلنے میں عورتوں کے لیے کوئی اجر نہیں ۔“
حوالہ حدیث مجموعه ضعيف احاديث / حدیث: 734
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث {«ضعيف»} :
[السلسلة الضعيفة 4390] ، [ضعيف الجامع الصغير 4921]